مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حديث أبى أيوب الأنصاري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 23592
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ، فَكَانَتْ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ، فَشَكَاهَا إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ: بسْمِ اللَّهِ، أَجِيبي رَسُولَ اللَّهِ"، قَالَ: فَجَاءَتْ، فَقَالَ لَهَا، فَأَخَذَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنِّي لَا أَعُودُ، فَأَرْسَلَهَا، فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟" , قَالَ: أَخَذْتُهَا، فَقَالَتْ لِي: إِنِّي لَا أَعُودُ، فَأَرْسَلْتُهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا عَائِدَةٌ، فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ: لَا أَعُودُ، وَيَجِيءُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟" , فَيَقُولُ: أَخَذْتُهَا، فَتَقُولُ: لَا أَعُودُ، فَيَقُولُ: إِنَّهَا عَائِدَةٌ، فَأَخَذَهَا، فَقَالَتْ: أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبكَ شَيْءٌ، آيَةَ الْكُرْسِيِّ، فَأَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرَهُ، فَقَالَ:" صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوب" ..
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے خیمے میں ہوتے تھے ایک جن عورت آتی اور انہیں پکڑ لیتی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جب تم اسے دیکھو تو یوں کہنا " بسم اللہ اجیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چناچہ اگلی مرتبہ جب وہ آئی تو انہوں نے اسے یہی کہا اور اسے پکڑ لیا اس نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ آپ کے پاس نہیں آؤں گی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے پکڑ لیا تھا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئے گی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر آئے گی، چناچہ میں نے اسے دو تین مرتبہ پکڑا اور وہ ہر مرتبہ یہی کہتی تھی کہ آئندہ نہیں آؤں گی بالآخر ایک مرتبہ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک چیز سکھاتی ہوں تم اسے کہہ لیا کرو کوئی چیز تمہارے قریب نہیں آسکے گی اور وہ آیت الکرسی ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بتائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23592]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← أبو أيوب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥عيسى بن عبد الرحمن الأنصاري عيسى بن عبد الرحمن الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← عيسى بن عبد الرحمن الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← سفيان الثوري | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري |
Musnad Ahmad Hadith 23592 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← أبو أيوب الأنصاري