مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ , سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ , عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَكَرَ لِي أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ , أُرَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفَظِعْتُهُمَا، فَكَرِهْتُهُمَا، وَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُ: كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ" , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خواب یاد ہو تو بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں، میں گھبرا گیا اور ان سے مجھے بڑی کراہت ہوئی، مجھے حکم ہوا تو میں نے ان دونوں پر پھونک مار دی اور وہ دونوں اڑ گئے، میں اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کرتا ہوں جن کا خروج ہوگا۔“ عبیداللہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اسود عنسی تھا جسے سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ نے یمن میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2373]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4379، م: 2274
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي