الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1131. حديث بلال رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23902
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ أَتْيَةً، فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ، أَوْ قَالَ: ضَخْم الشَّفَتين وَالْأَنْفِ، إذا بين يديه سلاح فسألوه وهو يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: بِلَالٌ .
عمرو بن مرداس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا تو وہاں ایک آدمی نظر آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے اور اس کے سامنے اسلحہ تھا لوگ اس سے پوچھ رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ لوگو! یہ اسلحہ پکڑو اور اس سے اصلاح کا کام لو اور اس کے ذریعے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23902]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمرو بن مرداس، وأبي الورد بن ثمامة
الرواة الحديث:
عمرو بن مرداس السلمي ← بلال بن رباح الحبشي