مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1170. حديث السيدة عائشة رضي الله عنها الفهرس الفرعى
حدیث نمبر: 24039
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: " مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ: فِي حِجْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟" .
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب اپنا وصی مقرر فرمایا؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا، انہوں نے ایک طشت منگوایا، بالآخر میری گود میں ہی ان کی روح نے پرواز کیا اور مجھے معلوم بھی نہ ہوسکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوچکا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا وصی کب مقرر فرما دیا؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24039]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2741، م: 1636
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24039 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق