مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 24682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحًى، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمَ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24682]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3931، م: 892
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق