مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا: قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ".
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرأت کون سی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا: نہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرأت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2494]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر، لين الحديث
الرواة الحديث:
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي