مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25312
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثم ركع، فأطالَ الركوع جدًَّا، وهو دون الركوع الأوَّل ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ القيامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ. فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَكَبِّرُوا، وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ، أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جنہیں کسی کی موت وحیات سے گہن نہیں لگتا، جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو اللہ کی کبریائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیا کرو، نماز اور خیرات کیا کرو، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے زیادہ کسی کو اس بات پر غیرت نہیں آسکتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی بدکاری کرے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بخد اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہوتا جو مجھ معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25312]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة |
Musnad Ahmad Hadith 25312 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق