مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25342
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً، تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ، سُرِّيَ عَنْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ إِلَى رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم باربار گھر میں داخل ہوتے اور باہر جاتے اور آگے پیچھے ہوتے، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں دردناک عذاب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25342]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق