مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25477
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ: أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي؟ قَالَ: قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ، وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي. قَالَتْ: أَوَمَا عَلِمْتَ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ، إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ، أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ، أَوْ زَنَى، بَعْدَمَا أُحْصِنَ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ" .
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25477]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عمرو بن غالب الهمداني عمرو بن غالب الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن غالب الهمداني | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث |
Musnad Ahmad Hadith 25477 in Urdu
عمرو بن غالب الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق