یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2550
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ : إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ب قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ؟ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ".
حنظلہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرأت کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟ تم ان دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2550]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف حنظلة السدوسي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2550 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي