علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 26339
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ: " مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟" قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ آذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمْ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَقَامَ فَضَرَبَنِي , فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ:" يَا أَبَا رَافِعٍ , إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ باندی سلمی " جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رافع کی بیوی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ابو رافع نے اسے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع سے پوچھا کہ اے ابو رافع! تمہارا ان کے ساتھ جھگڑا ہوگیا؟ ابو رافع نے کہا یا رسول اللہ! اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمی! تم نے اسے کیا تکلیف پہنچائی ہے؟ سلمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی، البتہ نماز پڑھتے پڑھتے ان کا وضو ٹوٹ گیا تھا تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ اے ابو رافع! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دے رکھا ہے کہ اگر کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو وہ وضو کرے، بس اتنی بات پر یہ کھڑے ہو کر مجھے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنسنے لگے اور فرمایا اے ابو رافع! اس نے تو تمہیں خیر کی ہی بات بتائی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26339]
حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بسماعه من هشام
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 26339 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق