مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1174. حديث حفصة أم المؤمنين بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنهما
حدیث نمبر: 26428
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ، وَأَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا؟" .
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26428]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حفصة بنت عمر العدوية | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، أبو نصر عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ← عبد الله بن عون المزني | صدوق حسن الحديث |
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية