مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1179. حديث أم حبيبة بنت أبى سفيان رضي الله عنها واسمها رملة
حدیث نمبر: 26782
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ لِي بِسَوِيقٍ، فَشَرِبْتُهُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26782]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الرواة الحديث:
أبو سفيان بن سعيد الثقفي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية