مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1199. حديث أم مبشر امرأة زيد بن حارثة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27044
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ، قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" , قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟! قَالَ:" نَعَمْ، عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ" .
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک میں مرتبہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے، اس باغ میں زمانہ جاہلیت میں مر جانے والے کچھ لوگوں کی قبریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں عذاب دیئے جانے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اس باغ سے باہر آ گئے کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا انہیں قبروں میں عذاب ہو رہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور جانور بھی اس عذاب کو سنتے ہیں۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27044]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
جابر بن عبد الله الأنصاري ← حميمة بنت صيفي الأنصارية