مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1296. حديث سودة بنت زمعة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27419
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ , وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ , وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ , وَإِنَّهَا وَلَدَتْ , فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ , قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: " أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ , فَلَيْسَ بِأَخِيكِ , وَلَهُ الْمِيرَاثُ" .
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا باپ زمعہ فوت ہو گیا ہے اور اس نے ایک ام ولدہ باندی چھوڑی ہے جسے ہم ایک آدمی کے ساتھ متہم سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو اسی شخص کے مشابہہ ہے جس کے ساتھ ہم اسے متہم سمجھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس لڑکے سے پردہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے میراث ملے گی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27419]
حکم دارالسلام: قوله : "احتجبي منه" صحيح من حديث عائشة، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال مولي آل الزبير
الرواة الحديث:
يوسف بن الزبير القرشي ← سودة بنت زمعة القرشية