مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ سورة المدثر آية 8، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ؟"، فَقَالَ: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ: كَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت قرآنی: « ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: 8] » ”جب صور پھونکا جائے گا۔“ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعا پڑھنی چاہیے؟ فرمایا: ”یہ کہتے رہا کرو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا» ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3008]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3008 in Urdu
عطية بن سعد العوفي ← عبد الله بن العباس القرشي