یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِطَلْقَتَيْنِ، ثُمَّ عَتَقَا، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قال عبد الله: قال أبي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ، مَنْ أَبُو حَسَنٍ هَذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً!!.
ابوالحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کر سکتا ہے، اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کس کی طرف سے نقل کر رہے ہیں؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فتوی دیا ہے۔ عبداللہ اپنے والد امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے معمر سے پوچھا: اے ابوعروہ! یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے تو بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3088]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وقد سلف الكلام عليه برقم: 2031
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3088 in Urdu
أبو الحسن مولى عبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي