یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ، قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، اور تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، اور ”آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3092]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3092 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي