مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ" فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3253]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3253 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي