🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ:" فَنَاوَلْتُهُ سَبْعَةَ أَحْجَارٍ، فَقَالَ لِي: خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَةِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا، فَرَمَى بِهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَهُوَ رَاكِبٌ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب وہ جمرہ عقبہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مجھے کچھ کنکریاں دو، میں نے انہیں سات کنکریاں دیں، پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اونٹنی کی لگام پکڑ لو، پھر پیچھے ہٹ کر انہوں نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے اور یہ دعا کرتے رہے کہ اے اللہ! اسے حج مبرور بنا اور گناہوں کو معاف فرما، پھر فرمایا کہ وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4061]

حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: اللهم اجعله حجا مبرورا، وذنبا مغفورا وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن النخعي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الرحمن النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير
Newالليث بن أبي سليم القرشي ← محمد بن عبد الرحمن النخعي
ضعيف الحديث
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← الليث بن أبي سليم القرشي
ثقة