مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 4174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ، إِبْرَاهِيمُ الْقَائِلُ: لَا يَدْرِي، عَلْقَمَةُ، قَالَ: زَادَ أَوْ نَقَصَ، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَنَا، فَحَدَّثْنَاهُ بِصَنِيعِهِ، فَثَنَى رِجْلَهُ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اگر نماز کے حوالے سے کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور متنبہ کرتا، بات یہ ہے کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اگر میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4174]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.
الرواة الحديث:
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود