علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 4447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالْأَشْعَثُ، فَقَالَ ذَا: بِعَشَرَةٍ، وَقَالَ ذَا: بِعِشْرِينَ، قَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا، قَالَ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ: أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ".
قاسم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی چیز کی قیمت میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا، ایک صاحب دس بتاتے تھے اور دوسرے بیس، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کر لو، انہوں نے کہا کہ میں آپ ہی کو ثالث مقرر کرتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کے درمیان اختلاف ہو جائے، گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا، یا وہ دونوں نئے سرے سے بیع کر لیں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4447]
حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك جده ابن مسعود .
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 4447 in Urdu
القاسم بن عبد الرحمن الهذلي ← عبد الله بن مسعود