🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَرْبَعُ خِلَالٍ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُنَّ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُنَّ؟ قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ لَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَرَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّى تَضَعَ رِجْلَكَ فِي الْغَرْزِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ؟ قَالَ:" أَمَّا لُبْسِي هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا، ويَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَيَسْتَحِبُّهَا، وَأَمَّا اسْتِلَامُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا لَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا، وَأَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، وَأَمَّا إِهْلَالِي إِذَا اسْتَوَتْ بِي رَاحِلَتِي: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ".
جریج یا ابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، جو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتا ہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے، میں دیکھتاہوں کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک آپ اپنا پاؤں رکاب میں نہ رکھ دیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ داڑھی کو رنگین کرتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے، اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے، رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے، داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے سو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور جہاں تک سواری پر بیٹھ کر تلبیہ پڑھنے اور احرام کی نیت کر نے کا تعلق ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ پاؤں رکاب میں رکھ دیتے اور سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے اور سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4672]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبيد بن جريج التميمي
Newعبيد بن جريج التميمي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← عبيد بن جريج التميمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
Musnad Ahmad Hadith 4672 in Urdu