مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 5568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟!، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ!! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا".
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ ”یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں“۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5568]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3753.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← عبد الله بن عمر العدوي