مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: قَالَ:" اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , بِبَدْرٍ، ثُمَّ نَادَاهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟" قَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور انہیں پکار کر فرمانے لگے اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بعض صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!! کیا آپ مردوں کو پکار رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہاہوں وہ تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6145]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1370 .
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 6145 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي