مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ، فَأَخَذَهَا، فَأَكَلَهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھالیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہونے لگے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھالیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6720]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي