مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 703
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْ الْخَوَارِجِ، فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ، فَقَالَ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ مَقْتُولٌ، ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ، يَعْنِي: لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ، وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنْ افْتَرَى، وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ وَلِلِّبَاسي، هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ".
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ کے خوارج کی ایک جماعت آئی، ان میں جعد بن بعجہ نامی ایک آدمی بھی تھا، وہ کہنے لگا کہ علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بھی ایک دن مرنا ہے، فرمایا: نہیں، بلکہ شہید ہونا ہے وہ ایک ضرب ہو گی جو سر پر لگے گی اور اس داڑھی کو رنگین کر جائے گی، یہ ایک طے شدہ معاملہ اور فیصلہ شدہ چیز ہے اور وہ شخص نقصان میں رہے گا جو جھوٹی باتیں گھڑے گا، پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس میں کچھ کیڑے نکالے تو فرمایا کہ تمہیں میرے لباس سے کیا غرض یہ تکبر سے دور اور اس قابل ہے کہ اس معاملے میں مسلمان میری پیروی کریں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 703]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 703 in Urdu
زيد بن وهب الجهني ← علي بن أبي طالب الهاشمي