Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. مسند أبى بكر الصديق رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ، فَلَا أُحَرِّكُهُ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ، فَقَالَ شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَسَ رَأْسَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي بَيْنَ كَتِفَيْ الْعَبَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ لِعَلِيٍّ، قَالَ: فَسَلَّمَهُ لَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز چھوڑ کر گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں ہلایا، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا۔ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو وہ دونوں حضرات ان کے پاس اپنا معاملہ لے کر آئے لیکن انہوں نے یہی فرمایا کہ جس چیز کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں ہلایا، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا، جب خلافت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو وہ دونوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھی آئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا موقف سن کر خاموشی اختیار کی اور سر جھکا لیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے حکومت کی تحویل میں نہ لے لیں چنانچہ میں اپنے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا اور ان سے کہا: اباجان! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اسے علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیجئے چنانچہ انہوں نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 77]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمير بن عبد الله الهلالي، أبو عبد الله
Newعمير بن عبد الله الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن رجاء، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن رجاء ← عمير بن عبد الله الهلالي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إسماعيل بن رجاء
ثقة حافظ
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن حماد الشيباني، أبو محمد، أبو زكريا، أبو بكر
Newيحيى بن حماد الشيباني ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة