مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8545
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ: مَعَ الَّذِي قُلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8545]
حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، فیه ثلاث علل : اضطراب إسنادہ ، وجھالة بعض رواته ، و روایة بعضھم له موقوفا
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8545 in Urdu
عثمان بن شماس ← أبو هريرة الدوسي