مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8839
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَسَمِعْنَا وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی آواز ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا یہ ایک پتھر کی آواز ہے جیسے ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ پتھر اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8839]
حکم دارالسلام: صحيح بلفظ: « إذ سمع وجبة » ، م: 2844، تفرد يزيد وأخطأ فى لفظ الحديث فرواه على الاخبار بسماع الصحابة في مجلس النبي ﷺ لصوت سقوط الحجر
الرواة الحديث:
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي