مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8840
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ قَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي، يَقُولُ: " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ" .
ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا وہ وضو فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ بغل تک دھو رہے تھے میں نے پوچھا ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے بنی فروخ تم یہاں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں اس طرح کبھی وضو نہ کرتا (بہرحال اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو سنو کہ) میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے اعضاء کی چمک وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8840]
حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، م: 250
الرواة الحديث:
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي