مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، قَالَا: نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ: مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، قَالَ: فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ:" أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ".
سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے، اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں ہے؟“ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: ”اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 950]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، شريك قد توبع
الرواة الحديث:
يزيد بن يثيع الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي