مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(ندامت کو توبہ قرار دینے کی روایت)
حدیث نمبر: 105
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : نَعَمْ , أَنَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " النَّدَمُ تَوْبَةُ" .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے کہا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ ”ندامت توبہ ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ندامت توبہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «صحيح، وقد خرجنا وعلقنا عليه فى أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4969، 5081، 5129، 5261، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 612،614»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 105 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:105
فائدہ:
گناہ سرزد ہو جانے کے بعد پشیمانی توبہ کا اہم جز ہے۔ اگر گناہ کے بعد انسان پشیمان ہو جائے تو تو به مکن ہے۔ اگر صورت حال اس کے خلاف ہو کہ انسان گناہ کر کے خوش ہو اور گناہ پر گناہ کرتا جائے تو ایسے انسان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے، اور اس کی حس ختم ہو جاتی ہے۔ توبہ کا دوسرا جز یہ ہے کہ صدق دل سے توبہ کرے، اور تیسرا جز یہ ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے۔
گناہ سرزد ہو جانے کے بعد پشیمانی توبہ کا اہم جز ہے۔ اگر گناہ کے بعد انسان پشیمان ہو جائے تو تو به مکن ہے۔ اگر صورت حال اس کے خلاف ہو کہ انسان گناہ کر کے خوش ہو اور گناہ پر گناہ کرتا جائے تو ایسے انسان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے، اور اس کی حس ختم ہو جاتی ہے۔ توبہ کا دوسرا جز یہ ہے کہ صدق دل سے توبہ کرے، اور تیسرا جز یہ ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 105]
حدیث نمبر: M105
قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَالَّذِي حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ , لأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:) عبدالکریم نے جو روایت ہمیں سنائی ہے، وہ ہمارے نزدیک زیادہ محبوب ہے، حالانکہ ابوسعد نامی راوی کے مقابلے میں وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: M105]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:) عبدالکریم نے جو روایت ہمیں سنائی ہے، وہ ہمارے نزدیک زیادہ محبوب ہے، حالانکہ ابوسعد نامی راوی کے مقابلے میں وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: M105]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ”العلل“ 192/5 مرفوعاً وموقوفاً، وأبوسعد البقال هو سعيد بن المرزبان ضعيف»
الرواة الحديث:
عبد الله بن المغفل المزني ← عبد الله بن مسعود