🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1054
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَوْتَ بَاكِيَةٍ، فَنَهَاهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهَا يَا أَبَا حَفْصٍ، فَإِنَّ الْعَهْدَ قَرِيبٌ، وَالْعَيْنَ بَاكِيَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کے رونے کی آواز سنی تو اسے منع کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوحفص! اسے چھوڑ دو، کیونکہ مصیبت لاحق ہونے کا زمانہ قریب ہے، آنکھ رو رہی ہے اور جان کو تکلیف لاحق ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، ولكنه الحديث حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3157، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1410، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1858، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1998، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1587، 1587 م، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7259، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5995، 7806، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6405»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← أبو هريرة الدوسي
0
👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم
Newوهب بن كيسان القرشي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← وهب بن كيسان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1860
العين دامعة والقلب مصاب والعهد قريب
سنن ابن ماجه
1587
العين دامعة والنفس مصابة والعهد قريب
مسندالحميدي
1054
دعها يا أبا حفص، فإن العهد قريب، والعين باكية، والنفس مصابة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1054 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1054
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت پر صرف رونا گناہ نہیں ہے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عورتوں کے دل نرم ہوتے ہیں، اور اگر وہ صرف رو رہی ہوں اور واویلا نہ کریں تو ان کو روکنا نہیں چاہیے، ہاں اگر وہ چیخ و پکار اور حرام امور کا ارتکاب کریں تو ان کو روک دینا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1053]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1860
میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
1860۔ اردو حاشیہ: فائدہ: مذکو ر کو رہ روایت سند ا ضعیف ہے لیکن حدیث میں مذکور مسئلہ دیگر صحیح شواہد کی بنا پر صحیح ہے کہ صدمے کی وجہ سے فطری طور پر جو رونا ا ٓجاتا ہے، وہ جائز ہے، وہ ممنو ع ررونے کی قسم میں نہیں ا ٓتا۔ علامہ اتیو بی نے مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے اس کے شواہد کا تذ رہ کیا ہے اور بہت ہی نفیس بحث کی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (ذخيرة العقبيٰ شرح سنن النسائی: 18/314۔ 320]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1860]

Musnad al-Humaydi Hadith 1054 in Urdu