Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1053
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَغْفرُوا لَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1245، 1318، 1327، 1328، 1333، 3880، 3881، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 951، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3068، 3098، 3100، 3101، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1878، 1970، 1971، 1979، 2040، 2041، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2018، 2109، 2110، 2118، 2179، 2180، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3204، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1022، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1534، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7032، 7033، 7126، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7268، 7403، 7891، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5956، 5968»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3880
نعى لهم النجاشي صاحب الحبشة في اليوم الذي مات فيه استغفروا لأخيكم
صحيح البخاري
1318
نعى النبي إلى أصحابه النجاشي صفوا خلفه كبر أربعا
صحيح البخاري
1327
استغفروا لأخيكم
صحيح البخاري
1333
نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى صف بهم كبر عليه أربع تكبيرات
صحيح البخاري
1245
نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه خرج إلى المصلى صف بهم كبر أربعا
صحيح مسلم
2204
نعى للناس النجاشي في اليوم الذي مات فيه خرج بهم إلى المصلى كبر أربع تكبيرات
صحيح مسلم
2205
نعى لنا رسول الله النجاشي صاحب الحبشة في اليوم الذي مات فيه استغفروا لأخيكم
جامع الترمذي
1022
صلى على النجاشي كبر أربعا
سنن أبي داود
3204
نعى للناس النجاشي في اليوم الذي مات فيه خرج بهم إلى المصلى فصف بهم كبر أربع تكبيرات
سنن النسائى الصغرى
2044
استغفروا لأخيكم
سنن النسائى الصغرى
2043
استغفروا له
سنن النسائى الصغرى
1880
نعى لهما النجاشي صاحب الحبشة اليوم الذي مات فيه استغفروا لأخيكم
سنن ابن ماجه
1534
النجاشي قد مات فخرج رسول الله وأصحابه إلى البقيع صفنا خلفه تقدم رسول الله فكبر أربع تكبيرات
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
222
نعى للناس النجاشي فى اليوم الذى مات فيه، وخرج بهم إلى المصلى، فصف بهم وكبر اربع تكبيرات
بلوغ المرام
449
نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه اربعا
مسندالحميدي
1053
استغفروا له
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1053 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1053
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت کی اطلاع ملے تو اس کے لیے بخشش کی دعا کرنی چاہیے۔ فائده نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی تھی۔ [صحيح مسلم: 951]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1052]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 222
لوگوں کو میت کی اطلاع دینا جائز ہے
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى للناس النجاشي فى اليوم الذى مات فيه، وخرج بهم إلى المصلى، فصف بهم وكبر اربع تكبيرات»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع اس دن دی جس دن وہ (نجاشی) فوت ہوئے اور آپ صحابہ کرام کے ساتھ جنازہ گاہ تشریف لے گئے پھر آپ نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ (نجاشی) فوت ہوئے اور آپ صحابہ کرام کے ساتھ جنازہ گاہ تشریف لے گے پھر آپ نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 222]
تخریج الحدیث:
[الموطأ رواية يحيٰ بن يحيٰ 226/1، 227، ح 533، ك 16 ب 5 ح 14، التمهيد 324/6، الاستذكار: 490 و أخرجه البخاري 1245، ومسلم 951، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ لوگوں کو میت کی اطلاع دینا جائز ہے۔ دیکھئے: [فتح الباري 116/3]
● سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع مدینے کے ارد گرد والی بستیوں تک پہنچانے کا حکم دیا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني 239/4 ح 4242، السنن الكبريٰ للبيهقي 74/4 وسنده صحيح]
➋ ایک روایت میں میت کی اطلاع دینے سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن الترمذي: 986 وقال: هٰذا حديث حسن]
● لیکن یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ بلال بن یحییٰ کی سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
● اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جاہلیت کی طرح گلی کوچوں میں چیخ چیخ کر موت کا اعلان کرنا ممنوع ہے۔ دیکھئے: [ماهنامه الحديث حضرو 20/11] اور [كتاب الجنائز للمباركپوري ص 18]
➌ نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنا بہتر ہے لیکن پانچ تکبیریں بھی جائز ہیں جیسا کہ [صحيح مسلم 957/72 (2216)] سے ثابت ہے۔
➍ نماز جنازہ مسجد سے باہر پڑھنا بہتر ہے جبکہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔
➎ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو دور کی خبریں بذریعہ وحی بتا دیتا تھا۔
➏ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو غائبانہ نماز جنازہ جائز ہے۔
➐ نماز جنازہ میں جفت یا طاق صفوں کی کوئی شرط نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کے پیچھے دو صفیں تھیں۔ [صحيح مسلم: 952، دارالسلام: 2209]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 14]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 449
موت کی اطلاع دینا اور غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا جواز
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی خبر وفات اسی روز دی جس روز وہ فوت ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ صف بندی کروائی اور اس پرچار تکبیریں کہیں۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 449]
فائدہ: اس حدیث سے کسی کو موت کی اطلاع دینا ثابت ہو رہا ہے اور غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا جواز بھی معلوم ہو رہا ہے، تاہم یہ مسئلہ آج تک علماء کے مابین مختلف فیہ چلا آ رہا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر ایک میت کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے حتی کہ بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ ہر شام کو نماز جنازہ پڑھے اور نیت یہ کرے کہ ہر اس مسلمان کی نماز جنازہ ہے جو آج روئے زمین پر فوت ہوا ہے۔ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ ہر ایک کی غائبانہ نماز جنازہ جائز نہیں، صرف اس شخص کی غائبانہ پڑھی جائے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ الله نے اسی قول کو راجح قرار دیا ہے، جبکہ ایک تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ہر اس شخص کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے جس نے علم نافع وغیرہ کی صورت میں مسلمانوں پر احسان کیا ہو، تاہم اس مسئلے کی بابت ہمارے نزدیک راجح اور اقرب الی الصواب بات درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ہے۔
❀ فوت ہونے والا اچھی شہرت اور سیاسی، مذہبی اور علمی حیثیت کا حامل ہو، ہر چھوٹے بڑے کی نماز جنازہ غائبانہ طور پر پڑھنا غیر مسنون ہے۔
❀ غائبانہ نماز جنازہ کی ادائیگی میں سیاسی یا مالی مفادات وابستہ نہ ہوں، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی مطلوب ہو۔
❀ اس کے لیے اعلانات، اشتہارات اور بینر وغیرہ لگانا، مخصوص علمائے کرام یا مذہبی و سیاسی قائدین سے نماز جنازہ پڑھوانا، نیز انتظار اور اسی قسم کے دیگر ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا، جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں یہ وبا عام ہے، شرعی طور پر محل نظر ہے، لہٰذا اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
❀ غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر تقاریر یا خطابات کا بھی قطعاً اہتمام نہ ہو، ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔ بصورت دیگر فوت ہونے والے شخص کے لیے صرف دعا کرنا ہی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنی خصوصی دعاوں میں یاد رکھا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
❀ غائبانہ نماز جنازہ کا طریقہ وہی ہے جو میت سامنے ہونے کی صورت میں نماز جنازہ کا ہے۔ وضاحت:
نجاشی رحمہ الله نون پر فتحہ اور جیم مخفف ہے۔ حبشہ کے بادشاہ ہے جیسا کہ روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے۔ نجاشی کا اصل نام اصحمہ بن ابحر تھا۔ کفار مکہ کے فتنے سے اپنے دین کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے اسی بادشاہ کے دور میں حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی۔ اسے نبی صلى الله عليه وسلم نے 6 ہجری کے آخر میں یا محرم 7 ہجری میں عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے خط لکھ کر، اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس نے آپ کے مکتوب گرامی کو بوسہ دیا، اسے اپنی آنکھوں سے بھی لگایا، پھر اپنے تخت شاہی سے نیچے اتر آیا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ ساری صورتحال تحریر کر کے بھجوا دی۔ 9 ہجری کے بعد رجب میں غزوہ تبوک کے بعد وفات پائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نائب کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ بہت سے لوگوں کو ان دونوں خطوط کے بارے میں میں التباس و اختلاط ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 449]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1880
موت کی خبر دینے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1880]
1880۔ اردو حاشیہ: نجاشی لقب تھا۔ نام ان کا اصحمہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ صف بندی کے ساتھ ان کا جنازہ بھی پڑھایا تھا۔ تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1880]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2043
مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نجاشی (شاہ حبشہ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2043]
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کسی کی وفات کی اطلاع ملنے پر (إنّا للهِ وإنّا إليه راجِعونَ) پڑھنے کے ساتھ اس کے لیے بخشش کی دعا بھی کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف فرمائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2043]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3204
جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حبشہ کا بادشاہ) نجاشی ۱؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز (جنازہ) پڑھی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3204]
فوائد ومسائل:
جب کسی صاحب علم یا فضل یا اہم شخصیت کی دوسرے شہر یا ملک میں وفات ہوجائے۔
تو اس کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھنی جائز ہے۔
اسی طرح قبر پر نماز جنازہ بھی ایک اعتبار سے نماز جنازہ غائبانہ ہی ہے مگر اسے (غائبانہ نماز جنازہ کو)عام مسلمانوں کے لئے عام کردینا بھی درست نہیں۔
(تفصیل کےلئے دیکھئے۔
نیل الاوطار باب الصلواۃ علی الغائب)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3204]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1534
نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1534]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت نجاشی رحمۃ اللہ علیہ حبشہ کے بادشاہ تھے ان کا نام اصحمہ تھا۔ (صحیح البخاري،  مناقب الأنصار، باب موت النجاشی، حدیث: 3879)
 حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے نجاشی کی وفات 8 یا 9 ہجری لکھی ہے۔
اور فرمایا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک ان کی وفات 9 ہجری میں ہوئی ہے۔
دیکھئے: (فتح الباري، 240/7، حدیث: 3877)

(2)
مذکورہ حدیث سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے تاہم یہ مسئلہ آج تک علماء کے مابین مختلف فیہ چلا آرہا ہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر ایک میت کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے حتیٰ کہ بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ آدمی کوچاہیے کہ ہرشام کو نماز جنازہ پڑھے اور نیت یہ کرے کہ ہر اس مسلمان کی نماز جنازہ ہے۔
جو آج روئے زمین پر فوت ہوا ہے۔
کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ ہر ایک کی غائبانہ نماز جنازہ جائز نہیں۔
صرف اسی شخص کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے۔
جس کے بارے میں یہ معلوم ہوکہ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ نے اسی قول کوراحج قراردیا ہے۔
جبکہ ایک تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ہراس شخص کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے جس نے علم نافع وغیرہ کی صورت میں مسلمانوں پر احسان کیاہو۔
تاہم اس مسئلے کی بابت ہمارے نزدیک راحج اور اقرب الی الصواب بات درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ہے۔

٭ فوت ہونے والا اچھی شہرت اور سیاسی مذہبی اور علمی حیثیت کا حامل ہو۔
ہرچھوٹے بڑے کی نماز جنازہ غائبانہ طور پر پڑھناغیر مسنون ہے۔

٭ غائبانہ نماز جنازہ کی ادایئگی میں سیاسی یا مالی مفادات وابستہ نہ ہوں۔
صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی مطلوب ہو۔

٭  اس کے لئے اعلانات کرنا، شتہارات اور بینرز وغیرہ لگانا مخصوص علمائے کرام یا مذہبی وسیاسی قائدین سے نماز جنازہ پڑھوانا نیز انتظار اور اسی قسم کے دیگر ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں یہ وبا عام ہے۔
شرعی طور پر محل نظر ہے لہٰذا اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پرتقاریر یا خطابات کا بھی قطعاً اہتمام نہ ہو ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں۔
بصورت دیگر فوت ہونے والے شخص کےلئے صرف دعا کرنا ہی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔
واللہ أعلم بالصواب۔

(3)
غائبانہ نماز جنازہ کا طریقہ وہی ہے جو میت سامنے ہونے کی صورت میں ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1534]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1245
1245. حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی کے فوت ہونے کی خبر سنائی جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔ پھر آپ عید گاہ تشریف لے گئے،صفیں درست کرنے کے بعد چار تکبیریں کہیں اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1245]
حدیث حاشیہ:
بعضوں نے اس کو برا سمجھا ہے، امام بخاری ؒ نے یہ باب لا کر ان کا رد کیا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نجاشی اور زید اور جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کی موت کی خبریں ان کے لوگوں کو سنائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی پر نماز جنازہ پڑھی۔
حالانکہ وہ حبش کے ملک میں مرا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے تو میت غائب پر نماز پڑھنا جائز ہوا۔
اہلحدیث اور جمہور علماء کے نزدیک یہ جائز ہے اور حنفیہ نے اس میں خلاف کیا ہے۔
یہ حدیث ان پر حجت ہے۔
اب یہ تاویل کہ اس کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تھا فاسد ہے، کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔
دوسرے اگر سامنے بھی لایا گیا ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا ہو گا نہ کہ صحابہ کے، انہوں نے تو غائب پر نماز پڑھی۔
(وحیدي)
نجاشی کے متعلق حدیث کو مسلم و احمد و نسائی و ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اور سب نے ہی اس کی تصحیح کی ہے۔
علامہ شوکانى ؒ فرماتے ہیں:
وقد استدل بھذہ القصة القائلون بمشروعیة الصلوة علی الغائب عن البلد قال في الفتح وبذلك قال الشافعي وأحمدوجمهور السلف حتی قال ابن حزم لم یأت عن أحد من الصحابة منعه قال الشافعي علی المیت دعاء فکیف لا یدعی له وھو غائب أو في القبر۔
(نیل الأوطار)
یعنی جو حضرات نماز جنازہ غائبانہ کے قائل ہیں انہوں نے اسی واقعہ سے دلیل پکڑی ہے اور فتح الباری میں ہے کہ امام شافعی اور احمد اور جمہور سلف کا یہی مسلک ہے۔
بلکہ علامہ ابن حزم کا قول تو یہ ہے کہ کسی بھی صحابی سے اس کی ممانعت نقل نہیں ہوئی۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ جنازہ کی نماز میت کے لئے دعا ہے۔
پس وہ غائب ہو یا قبر میں اتاردیا گیا ہو، اس کے لیے دعا کیوں نہ کی جائے گی۔
نجاشی کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی ؓ کا جنازہ غائبانہ ادا فرمایا جن کا انتقال مدینہ میں ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تھے اور معاویہ بن مقرن اور معاویہ بن معاویہ مزنی کے متعلق بھی ایسے واقعات نقل ہوئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنازے غائبانہ ادا فرمائے۔
اگرچہ یہ روایات سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں۔
پھر بھی واقعہ نجاشی سے ان کی تقویت ہوتی ہے۔
جو لوگ نماز جنازہ غائبانہ کے قائل نہیں ہیں وہ اس بارے میں مختلف اعتراض کرتے ہیں۔
علامہ شوکانی بحث کے آخر میں فرماتے ہیں:
والحاصل أنه لم یأت المانعون من الصلوة علی الغائب بشيء یعتد به الخ۔
یعنی مانعین کوئی ایسی دلیل نہ لا سکے ہیں جسے گنتی شمار میں لایا جائے۔
پس ثابت ہوا کہ نماز جنازہ غائبانہ بلا کراہت جائز و درست ہے۔
تفصیل مزید کے لیے نیل الاوطار (جلد: 3ص55، 56)
کا مطالعہ کیا جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1245]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1245
1245. حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی کے فوت ہونے کی خبر سنائی جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔ پھر آپ عید گاہ تشریف لے گئے،صفیں درست کرنے کے بعد چار تکبیریں کہیں اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1245]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ میت کے لواحقین کو وفات کی اطلاع نہیں دینی چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا انہیں پریشان اور رنج و الم میں مبتلا کرنا ہے، پھر احادیث میں کسی کے مرنے کا اعلان کرنا منع آیا ہے۔
امام بخاری ؓ نے ثابت کیا ہے کہ اہل میت کو وفات کی اطلاع دینا جائز ہے۔
اگرچہ انہیں پریشانی تو ہوتی ہے لیکن مصلحت کا تقاضا ہے کہ ان کی پریشانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں مطلع کر دیا جائے تاکہ وہ ان کی تجہیز و تکفین اور تدفین وغیرہ کا بندوبست کریں۔
لوگوں کو اطلاع کرنے سے نماز جنازہ میں بکثرت لوگ شامل ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی مغفرت کے لیے اللہ سے دعا کریں گے، نیز اس کی وصیت وغیرہ پر عمل کا بھی موقع میسر آئے گا۔
اس کے علاوہ متعدد ایسے احکام ہیں جن پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب اس کے عزیز و اقارب کو وفات کی اطلاع کی جائے۔
اس کے متعلق حکم امتناعی کی وضاحت ہم آئندہ حدیث کے تحت کریں گے۔
(2)
واضح رہے کہ نجاشی ملک حبشہ کے فرماں روا کو کہا جاتا تھا۔
جس نجاشی کا حدیث میں ذکر ہے اس کا نام اصحمہ تھا اور وہ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ہاتھوں مسلمان ہوا تھا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 9 ہجری کو جنگ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ کو اس کے فوت ہونے کی بذریعہ وحی اطلاع کر دی گئی۔
چونکہ اہل مدینہ کے ساتھ اس کا دینی رشتہ تھا، علاوہ ازیں اس کے عزیز و اقارب بھی مدینہ میں آباد تھے، آپ نے دینی اور خونی رشتے داروں کو اس کے فوت ہونے کی اطلاع دی۔
امام بخاری ؓ نے اس اطلاع سے اپنا عنوان ثابت کیا ہے۔
(فتح الباري: 151/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1245]

الشیخ مبشر احمد ربانی رحمہ الله، فوائد و مسائل،صحیح بخاری 1245
غائبانہ نمازِ جنازہ کی شرعی حیثیت
سوال: غائبانہ نمازِ جنازہ کی شرعی حیثیت کے متعلق بتا کر عنداللہ ماجور ہوں؟
جواب: غائبانہ نمازِ جنازہ درست ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
«عن ابي هريرة رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى النجاشي فى اليوم الذى مات فيه، وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه اربع تكبيرات» [بخاري، كتاب الجنائز: باب التكبير على الجنائز اربعا 1333]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع اس دن دی جس دن وہ فوت ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو لے کر جنازگاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔
اس حدیث سے غائبانہ نمازِ جنازہ کا ثبوت ملتا ہے اور جس شخص کی نمازِ جنازہ میت حاضر ہونے کی صورت میں ہو سکتی ہے، غائب ہونے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ شہید کی نمازِ جنازہ کے مسنون ہونے کے دلائل اوپر گزر چکے ہیں۔

بعض لوگ غائبانہ نمازِ جنازہ کے سرے ہی سے منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
یہ صرف نجاشی ہی کے ساتھ خاص تھا کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کے تمام پردے ہٹا دیے گئے اور نجاشی کی میت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے۔
مگر یہ بات درست نہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ روایت اوہام وخیالات میں سے ہے (یعنی اس کی کچھ حقیقت نہیں)۔ [المجموع 253/5]
رہا نجاشی کے ساتھ خاص ہونا تو یہ بات اس لیے درست نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل امت کے لیے نمونہ ہے۔ ہاں اگر کسی عمل کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وضاحت فرما دی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے تو الگ بات ہے اور یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ صرف اس شخص کی غائبانہ نمازِ جنازہ درست ہے جس کی اس علاقے میں نہ پڑھی گئی ہو جہاں وہ فوت ہوا۔ ان کا استدلال ان الفاظ سے ہے جو اس حدیث کی بعض روایات میں آتے ہیں:
«ان اخا لكم قد مات بغير ارضكم»
تمہارا بھائی تمہارے علاقے سے باہر فوت ہوگیا ہے۔
ان حضرات کا کہنا ہے کہ نجاشی کی نمازِ جنازہ وہاں نہیں پڑھی گئی تھی۔ ہمارے علم کے مطابق حدیث کے ان الفاظ میں یہ کہیں موجود نہیں کہ نجاشی کی نمازِ جنازہ وہاں کسی نے نہیں پڑھی تھی۔ علاقہ غیر میں فوت ہونے سے یہ بات ضروری نہیں کہ وہاں کوئی بھی مسلمان موجود نہ ہو اور کسی نے بھی نجاشی کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی ہو۔ علاقے سے باہر فوت ہونے کی وجہ سے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے کی یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے لیے وہاں پہنچنا مشکل ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون۔۔۔
احكام و مسائل
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 999]