علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(سرگوشی سے تیسرے شخص کو غمگین کرنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 109
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز (اس تیسرے شخص کو) غمگین کر دے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 2356، 2416، 25152666، 2669، 2673،2676،4549، 5240،5241،6290، 6659، 6676،7183، 7445، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 138، 2184،وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5114، 5132، 5220، 5255، وابن حبان فى ”صحيحه“: 583،4160،4161، 5084،5085، 5086»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود | مخضرم | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 109 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:109
فائدہ:
کسی بھی صورت میں مسلمان کی دل آزاری کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ دل آزاری زبان سے ہو، یاعمل سے۔ دانائی سے کام لے کر زندگی گزارنی چاہیے، اس میں بڑا سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ جب کسی کو آپ سے تکلیف نہیں ہوگی تو وہ بھی آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گا، ورنہ زندگی پریشانیوں میں ہی گزرے گی۔ بدگمانی فساد کی جڑ ہوتی ہے، اس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ جب تین شخص اکٹھے ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں لیکن جب ان میں سے دو الگ ہوکر باتیں کریں گے تو بدگمانیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، اور نقصان ہوگا۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے کس قدر عمدہ اصول بنائے ہیں، کاش! مسلمان ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں۔
کسی بھی صورت میں مسلمان کی دل آزاری کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ دل آزاری زبان سے ہو، یاعمل سے۔ دانائی سے کام لے کر زندگی گزارنی چاہیے، اس میں بڑا سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ جب کسی کو آپ سے تکلیف نہیں ہوگی تو وہ بھی آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گا، ورنہ زندگی پریشانیوں میں ہی گزرے گی۔ بدگمانی فساد کی جڑ ہوتی ہے، اس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ جب تین شخص اکٹھے ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں لیکن جب ان میں سے دو الگ ہوکر باتیں کریں گے تو بدگمانیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، اور نقصان ہوگا۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے کس قدر عمدہ اصول بنائے ہیں، کاش! مسلمان ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 109]
Musnad al-Humaydi Hadith 109 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود