🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1136
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ وَسَمِعْنَاهُ مِنْهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنْهُ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، قَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ مسجد میں شعر سنا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات پر انہیں ڈانٹا، تو وہ بولے: میں نے اس مسجد میں اس وقت شعر سنائے، جب اس مسجد میں وہ ہستی موجود تھی جو آپ سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: میں آپ کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میری طرف سے کفار کو شعر میں جواب دو۔ اے اللہ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 453، 3212، 6152، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2485، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1307، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1653، 7148، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 715، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 797، 9927 وأبو داود فى «سننه» برقم: 5013، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4419، 4420، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7759، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5885، 6017»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥حسان بن ثابت الخزرجي، أبو عبد الرحمن، أبو الوليد، أبو الحسام
Newحسان بن ثابت الخزرجي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← حسان بن ثابت الخزرجي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5013
ينشد في المسجد فلحظ إليه قال كنت أنشد وفيه من هو خير منك
مسندالحميدي
1136
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1136 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1136
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد وغیرہ میں اچھے اشعار، جو قرآن و حدیث کے موافق ہوں، پڑھنے درست ہیں، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن و حدیث کا دفاع کرنا فرض ہے، اور جو دفاع قرآن و حدیث پر کام کرتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا «الـلـهـم أيده بروح القدس» ‏‏‏‏کا مصداق ہے۔ اے اللہ! راقم کو بھی اس دعا کا مصداق کرنا، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1134]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5013
شعر کا بیان۔
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس (مسجد) میں آپ سے بہتر شخص (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5013]
فوائد ومسائل:

مسجد میں دین اور اخلاقی موضوعات پر مشتمل اشعار کا پڑھنا جائز ہے۔


مگر یہ حقیقت بھی برمحل ہے۔
کہ شرعی مزاج شعروشاعری سے کوئی زیادہ مناسبت نہیں رکھتا۔
اسی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شعر پڑھنے کو ناپسنددیدگی کی نظر سے دیکھا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کسی بڑے سے بڑے صالح متقی اور مصلح کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔


کسی صاحب فضل سے اگر کہیں فکر وعمل میں اختلافی صورت در پیش ہو تو اس کا جواب نہایت ادب واخلاق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔


کوئی ادنیٰ اگر شرعی دلیل وحجت میں قوی ہو تو اس کے قبول کرلینے میں کسی بھی صاحب فضل کو عارنہیں ہونی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5013]

Musnad al-Humaydi Hadith 1136 in Urdu