Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1137
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَبْصَرَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لا يَرْحَمُ مَنْ لا يَرْحَمُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، تو بولا: میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی کبھی بوسہ نہیں دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5997، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2318، 2318، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 457، 463، 5594، 5596، 6975، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5218، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1911، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13708، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7242، 7409، 7764، 10824،وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5892، 5983، 6113، والبزار فى «مسنده» برقم: 7855، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20589، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7974»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5997
من لا يرحم لا يرحم
صحيح مسلم
6028
من لا يرحم لا يرحم
جامع الترمذي
1911
من لا يرحم لا يرحم
سنن أبي داود
5218
من لا يرحم لا يرحم
مسندالحميدي
1137
أنه لا يرحم من لا يرحم
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1137 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1137
فائدہ:
اس حدیث میں سخت دل انسان کے لیے نصیحت ہے جو اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، بلکہ ان کو بوسہ بھی دیتے تھے، سبحان اللہ۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقی اولاد، نواسوں، پوتوں، بھانجوں اور بھتیجوں، جب وہ چھوٹے ہوں، کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ان سے محبت کی علامت ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1135]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5218
آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5218]
فوائد ومسائل:
1- اپنے بچوں کو بوسہ دینا فطری محبت وشفقت کااظہار ہوتا ہے، باپ کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیٹی کو بوسہ دے جیسے کہ اور کی حدیث میں گزرا ہے، مگر بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اس سے کتراتے ہیں جو بلاشبہ غیر فطری ہے۔

2: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنا اللہ عزوجل کی رحمت کا باعث ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5218]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1911
بچوں سے پیار محبت کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، اقرع نے کہا: میرے دس لڑکے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا بھی بوسہ نہیں لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1911]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
یعنی جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1911]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5997
5997. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی ؓ کا بوسہ لیا جبکہ آپ کے پاس حضرت قرع بن حابس تمیمی ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے حضرت اقرع ؓ نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5997]
حدیث حاشیہ:
مزید تشریح حدیث ذیل میں آ رہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5997]