🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1183
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزَّةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: کبریائی میری چادر ہے، عزت میرا ازار ہے، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2620، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 328، 5671، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 203، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4090، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4174، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7499، 9016، 9483، 9639، 9834، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2509»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥الأغر بن سليك الكوفي، أبو مسلم
Newالأغر بن سليك الكوفي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← الأغر بن سليك الكوفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4090
الكبرياء ردائي والعظمة إزاري فمن نازعني واحدا منهما قذفته في النار
سنن ابن ماجه
4174
الكبرياء ردائي والعظمة إزاري من نازعني واحدا منهما ألقيته في جهنم
المعجم الصغير للطبراني
608
إن العزة إزاري ، والكبرياء ردائي ، فمن نازعني فيهما عذبته
مسندالحميدي
1183
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1183 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1183
فائدہ:
یہ حد یث قدسی ہے، کبریائی اور بڑائی اللہ تعالیٰ کی چادر ہے، جو تکبر کرتا ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی چادر کو ہاتھ ڈالا ہے، انسان اللہ کے مقابلے میں بالکل حقیر ہے، انسان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تکبر کرے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1181]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4090
تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4090]
فوائد ومسائل:
1: ردا اس چادر کو کہتے ہیں جو انسان اپنے جسم کے اوپر اوڑھتا ہے اور ازارنیچے کی چادرکو کہتے ہیں جو بطور تہمبنداستعمال ہوتی ہے۔

2: اللہ عزوجل کی تمام تر صفات پر ہمارا ایمان ہے اور ہم انہیں بلا کیف اور بلا تشبیہ تسلیم کرتے ہیں، کمال کبریائی اورعظمت صرف اور صرف اللہ ہی کو زیبا ہے اور انہیں رداء اور ازار سے تعبیرکرنے کا مفہوم۔
۔
۔
۔
۔
واللہ اعلم۔
  بقول علامہ منذری۔
۔
۔
۔
۔
یہ ہے کہ جس طرح مخلوق میں سے کوئی کسی غیر کو اپنی رداء یا ازارمیں شریک نہیں کرتا تو اللہ عزوجل کا مقام بے انتہا بے انتہا بلدوبالا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4090]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4174
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، (یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4174]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عظمت و کبریائی اللہ تعالی کی ذاتی صفات ہیں۔
اگر مخلوق میں کسی کو وقتی طور پر محدود عظمت وشان حاصل ہے تو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس پر اللہ کا شکر کرے نہ کہ اپنی عظمت کا دعوی کرتے ہوئے تکبر کی روش اختیار کرے۔

(2)
تکبر کرنے والا گویا خدائی صفات کا حامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

(3)
انسان کی عظمت اللہ کے سامنے جھکنے اور اس کا بندہ بننے میں ہے فخر و تکبر میں نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4174]

Musnad al-Humaydi Hadith 1183 in Urdu