مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(عمارتیں بنانے اور دنیا میں رغبت سے منع کی روایت)
حدیث نمبر: 122
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا" , ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ , وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ورنہ تم دنیا میں راغب ہو جاؤ گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: براذان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“ 710، والحاكم فى مستدركه، برقم: 8005، والترمذي فى جامعه برقم: 2328، وأحمد فى مسنده، برقم: 3649 وأبو يعلى فى ”مسنده“، برقم: 5200»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعد بن الأخرم الطائي، أبو الأخرم سعد بن الأخرم الطائي ← عبد الله بن مسعود | والراجح أنه تابعي ضعيف الحديث، مختلف في صحبته | |
👤←👥المغيرة بن سعد الطائي المغيرة بن سعد الطائي ← سعد بن الأخرم الطائي | ثقة | |
👤←👥شمر بن عطية الأسدي شمر بن عطية الأسدي ← المغيرة بن سعد الطائي | ثقة | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← شمر بن عطية الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2328
| لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا |
مسندالحميدي |
122
| لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 122 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:122
فائدہ:
کھیتی باڑی کرنا مباح ہے، لیکن اگر اس کی خاطر دین سے دوری ہو تو درست نہیں ہے کھیتی باڑی بہت ہی مشقت والا کام ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے کسان بھائیوں کو دین پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
کھیتی باڑی کرنا مباح ہے، لیکن اگر اس کی خاطر دین سے دوری ہو تو درست نہیں ہے کھیتی باڑی بہت ہی مشقت والا کام ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے کسان بھائیوں کو دین پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 122]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2328
زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیداد ۱؎ کو مت بناؤ کہ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2328]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیداد ۱؎ کو مت بناؤ کہ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2328]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں ضیعہ کا لفظ آیا ہے،
اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جوغیرمنقولہ ہوں مثلا باغ،
کھیت اورگاؤں وغیرہ،
کچھ لوگ کہتے ہیں:
اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدارہو،
اگر یہ چیزیں انسان کو ذکرالٰہی سے غافل کردینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیداہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیارکرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
وضاحت:
1؎:
حدیث میں ضیعہ کا لفظ آیا ہے،
اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جوغیرمنقولہ ہوں مثلا باغ،
کھیت اورگاؤں وغیرہ،
کچھ لوگ کہتے ہیں:
اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدارہو،
اگر یہ چیزیں انسان کو ذکرالٰہی سے غافل کردینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیداہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیارکرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2328]
Musnad al-Humaydi Hadith 122 in Urdu
سعد بن الأخرم الطائي ← عبد الله بن مسعود