سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب منه
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 2328
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیداد ۱؎ کو مت بناؤ کہ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2328]
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9231) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں ضیعہ آیا ہے، اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جو غیر منقولہ ہوں مثلاً باغ، کھیت اور گاؤں وغیرہ، کچھ لوگ کہتے ہیں: اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدار ہو، اگر یہ چیزیں انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کر دینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیدا ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیار کرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (12)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعد بن الأخرم الطائي، أبو الأخرم سعد بن الأخرم الطائي ← عبد الله بن مسعود | والراجح أنه تابعي ضعيف الحديث، مختلف في صحبته | |
👤←👥المغيرة بن سعد الطائي المغيرة بن سعد الطائي ← سعد بن الأخرم الطائي | ثقة | |
👤←👥شمر بن عطية الأسدي شمر بن عطية الأسدي ← المغيرة بن سعد الطائي | ثقة | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← شمر بن عطية الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2328
| لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا |
مسندالحميدي |
122
| لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2328 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2328
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں ضیعہ کا لفظ آیا ہے،
اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جوغیرمنقولہ ہوں مثلا باغ،
کھیت اورگاؤں وغیرہ،
کچھ لوگ کہتے ہیں:
اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدارہو،
اگر یہ چیزیں انسان کو ذکرالٰہی سے غافل کردینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیداہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیارکرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
وضاحت:
1؎:
حدیث میں ضیعہ کا لفظ آیا ہے،
اس سے مراد ایسی جائدادیں ہیں جوغیرمنقولہ ہوں مثلا باغ،
کھیت اورگاؤں وغیرہ،
کچھ لوگ کہتے ہیں:
اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر انسان کی معاشی زندگی کا دارومدارہو،
اگر یہ چیزیں انسان کو ذکرالٰہی سے غافل کردینے والی ہوں اور انسان آخرت کو بھول بیٹھے اور اس کے دل میں پورے طورے پر دنیا کی رغبت پیداہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیارکرے اور خشیت الٰہی کو اپنائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2328]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:122
122- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ونہ تم دنیا میں راغب ہوجاؤ گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: براذان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:122]
فائدہ:
کھیتی باڑی کرنا مباح ہے، لیکن اگر اس کی خاطر دین سے دوری ہو تو درست نہیں ہے کھیتی باڑی بہت ہی مشقت والا کام ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے کسان بھائیوں کو دین پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
کھیتی باڑی کرنا مباح ہے، لیکن اگر اس کی خاطر دین سے دوری ہو تو درست نہیں ہے کھیتی باڑی بہت ہی مشقت والا کام ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے کسان بھائیوں کو دین پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 122]
سعد بن الأخرم الطائي ← عبد الله بن مسعود