🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1271
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَوْلا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ" ، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيُغَارُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک محل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے ایک گھر دیکھا میں نے دریافت کیا: یہ گھر کس کا ہے، تو مجھے بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے، اے ابوحفص! اگر تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غصہ کروں گا؟ [مسند الحميدي/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3679، 5226، 7024، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2393، 2394، 2457، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6886، 7084، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8070، 8071، 8072، 8178، 8326، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14543، 15233، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1976، 2014، 2063»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3679
رأيتني دخلت الجنة فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة سمعت خشفة فقلت من هذا فقال هذا بلال رأيت قصرا بفنائه جارية فقلت لمن هذا فقال لعمر فأردت أن أدخله فأنظر إليه فذكرت غيرتك فقال عمر بأبي وأمي يا رسول الله أعليك أغار
مسندالحميدي
1271
مسندالحميدي
1272
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1271 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1271
فائدہ:
اس حدیث سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور غیرت ثابت ہوتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دنیا میں جنت کی خوشخبری مل گئی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اتنے بہادر ہونے کے باوجود دین کے معاملے میں بہت نرم دل تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1272]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3679
3679. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو (بحالت خواب)جنت میں داخل ہوتے دیکھا اور وہاں ابو طلحہ کی بیوی رمیصاء کو بھی دیکھا۔ میں نے ایک شخص کے چلنے کی آواز سن کر دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو کسی نے جواب دیا: یہ حضرت بلال ؓ ہیں۔ پھر میں نے وہاں ایک محل دیکھا۔ اس کے صحن میں ایک جوان عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا محل ہے؟کسی نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ محل میں گھوم پھر کر دیکھو مگر اے عمر!بن خطاب کا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ محل میں گھوم پھر کر دیکھوں مگر اسے عمر!مجھے تمھاری غیرت یاد آگئی۔ حضرت عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!کیا میں آپ پرغیرت کروں گا؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3679]
حدیث حاشیہ:
مذکورہ خاتون رمیصاء نامی حضرت انس ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں۔
یہ لفظ رمص سے ہے۔
رمص آنکھ کے میل کوکہتے ہیں، ان کی آنکھوں میں میل رہتاتھا، اس لیے وہ اس لقب سے مشہور تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3679]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3679
3679. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو (بحالت خواب)جنت میں داخل ہوتے دیکھا اور وہاں ابو طلحہ کی بیوی رمیصاء کو بھی دیکھا۔ میں نے ایک شخص کے چلنے کی آواز سن کر دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو کسی نے جواب دیا: یہ حضرت بلال ؓ ہیں۔ پھر میں نے وہاں ایک محل دیکھا۔ اس کے صحن میں ایک جوان عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا محل ہے؟کسی نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ محل میں گھوم پھر کر دیکھو مگر اے عمر!بن خطاب کا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ محل میں گھوم پھر کر دیکھوں مگر اسے عمر!مجھے تمھاری غیرت یاد آگئی۔ حضرت عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!کیا میں آپ پرغیرت کروں گا؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3679]
حدیث حاشیہ:

یہ دونوں احادیث حضرت عمر ؓ کی عظیم منقبت پر مشتمل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت خواب جنت میں ان کا محل دیکھا،جس میں ان کی بیوی وضو کررہی تھی۔
یہ وضو ان کے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے تھا کیونکہ جنت میں شرعی احکام کی بجاآوری کا سلسلہ نہیں ہے۔

حدیث جابر دراصل تین احادیث پرمشتمل ہے۔
اس میں رمیصاء نامی خاتون کا ذ کر ہے جو حضرت ابوطلحہ ؓ کی بیوی،حضرت انس ؓ کی والدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ ہیں۔
ان کا نام سہلہ اور کنیت ام سلیم ہے۔

حضرت عمر کا رونا خوشی ومسرت کی وجہ سے تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی وجہ سے تو ہمیں ہدایت اور یہ مقام بلند عنایت ہواتوکیا میں نے آپ کی وجہ سے غیرت کرنا تھی۔
(فتح الباري: 57/7، 58)

اس حدیث میں حضرت ام سلیم ؓ کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور وہ عبادات میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3679]

Musnad al-Humaydi Hadith 1271 in Urdu