علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1316
حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ وَضْعَ الْجَوَائِحِ بِشَيْءٍ" , قَالَ سُفْيَانُ: لا أَحْفَظُهُ إِلا أَنَّهُ ذَكَرَ وَضْعَهَا، وَلا أَحْفَظُ كَمْ ذَلِكَ الْوَضْعُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرتی آفت لاحق ہونے کی صورت میں کچھ ادائیگی معاف کرنے کا ذکر کیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے صرف یہی یاد ہے، راوی نے اس میں کچھ چیز معاف کرنے کا ذکر کیا ہے مجھے یہ یاد نہیں ہے، کتنا حصہ معاف کرنا چاہئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1554 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5031، 5034، 5035، وانظر الحديث التالي»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2196
| تباع الثمرة حتى تشقح |
صحيح البخاري |
1487
| عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها |
صحيح البخاري |
2189
| بيع الثمر حتى يطيب لا يباع شيء منه إلا بالدينار والدرهم إلا العرايا |
صحيح مسلم |
3871
| عن بيع الثمر حتى يطيب |
صحيح مسلم |
3872
| عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه |
سنن أبي داود |
3373
| نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه لا يباع إلا بالدينار أو بالدرهم إلا العرايا |
سنن أبي داود |
3370
| أن تباع الثمرة حتى تشقح قيل وما تشقح قال تحمار وتصفار ويؤكل منها |
سنن النسائى الصغرى |
4529
| بيع النخل حتى يطعم |
سنن ابن ماجه |
2216
| نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه |
مسندالحميدي |
1316
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر وضع الجوائح بشيء |
مسندالحميدي |
1318
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع السنين |
مسندالحميدي |
1329
| نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة، والمحاقلة، والمخابرة، وأن لا يباع التمر حتى يبدو صلاحه، وأن لا يباع إلا بالدينار، أو الدرهم، إلا أنه رخص في العرايا |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1316 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1316
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی نے مال فروخت کر دیا ہو، اس کی کٹائی سے پہلے آفت آ جائے اور مال کو نقصان پہنچ جائے، تو اصل مالک کو چاہیے کہ کچھ مال یا کچھ پیسے چھوڑ دے، اسلام انسانیت کا ہمدرد دین ہے، کسی کو ایذا نہیں دیتا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی نے مال فروخت کر دیا ہو، اس کی کٹائی سے پہلے آفت آ جائے اور مال کو نقصان پہنچ جائے، تو اصل مالک کو چاہیے کہ کچھ مال یا کچھ پیسے چھوڑ دے، اسلام انسانیت کا ہمدرد دین ہے، کسی کو ایذا نہیں دیتا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1315]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1318
1318 - سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سالوں کے حساب سے سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1318]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک فصل کی کئی سال کے لیے بیع کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ درمیان میں فصل پر مختلف آفتیں آتی رہتی ہیں بھی سیلاب تو کبھی بیماری آ جاتی ہے، اس لیے اسلام کئی سالوں کی بیع سے روکتا ہے، اور اسلام امن چاہتا ہے، بلکہ ہر سال فصل کو بیچنا چاہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک فصل کی کئی سال کے لیے بیع کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ درمیان میں فصل پر مختلف آفتیں آتی رہتی ہیں بھی سیلاب تو کبھی بیماری آ جاتی ہے، اس لیے اسلام کئی سالوں کی بیع سے روکتا ہے، اور اسلام امن چاہتا ہے، بلکہ ہر سال فصل کو بیچنا چاہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1317]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1329
1329- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کھجور کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کیا جائے اور یہ کہ اسے صرف دینار یا درہم کے عوض میں فروخت کیا جائے البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔ مخابرہ سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایک تہائی یا چوتھائی پیدا وار کے عوض میں کرایہ پر دیا جائے۔ محاقلہ سے مراد یہ ہے کہ گندم کے کھیت میں موجود بالین کو فروخت کردیا جائے۔ مزابنہ سے مراد یہ ہے کھجور کے عوض میں درخت پر لگی ہوئی کھجور کو فروخت کردیا جائے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1329]
فائدہ:
اس حدیث میں بیوع کی بعض قسموں کا بیان ہے، اب بہت زیادہ جدید معاشی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں، بیوع اور سود کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں، بہت زیادہ کم پڑھے لکھے لوگ حرام کاروبار میں پھنس چکے ہیں، ان پر تفصیلی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ وقت اور صحت میں برکت ڈالے، اس موضوع پر مستقل ”اہم جدید معاشی مسائل“ کے عنوان سے کتاب لکھی جائے گی، ان شاء اللہ۔
اس حدیث میں بیوع کی بعض قسموں کا بیان ہے، اب بہت زیادہ جدید معاشی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں، بیوع اور سود کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں، بہت زیادہ کم پڑھے لکھے لوگ حرام کاروبار میں پھنس چکے ہیں، ان پر تفصیلی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ وقت اور صحت میں برکت ڈالے، اس موضوع پر مستقل ”اہم جدید معاشی مسائل“ کے عنوان سے کتاب لکھی جائے گی، ان شاء اللہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1327]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2196
2196. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ مشقح نہ ہوجائیں۔ عرض کیا گیا مشقح کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے فرمایا:جب تک وہ سرخ یا زرد اور کھانے کے قابل نہ ہوجائیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2196]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت انس ؓ کی روایت میں لفظ زهو استعمال ہوا ہے۔
جب کھجور کا پھل ظاہر ہوکر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہوجائے تو اس حالت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اس کا موسم ہاڑ کا مہینہ ہے۔
اس وقت ثریا ستارہ صبح کے وقت طلوع ہونے لگتا ہے۔
طلوع ثریا اس کے پختہ ہونے کی علامت ہے۔
اس وقت پھلوں کے لیے خطرات کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
حجاز کے علاقے میں اس وقت سخت گرمی ہوتی ہے اور پھل وغیرہ پک جاتے ہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
امام بخاری ؒ نے حسن ترتیب سے ان احادیث کو بیان کیا ہے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ کی حدیث میں ممانعت کا سبب بیان ہوا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ممانعت کی صراحت ہے، پھر حضرت انس اور حضرت جابر ؓ کی احادیث میں اس حکم امتناعی کی انتہا کا بیان ہے جہاں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 502/4)
(1)
حضرت انس ؓ کی روایت میں لفظ زهو استعمال ہوا ہے۔
جب کھجور کا پھل ظاہر ہوکر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہوجائے تو اس حالت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اس کا موسم ہاڑ کا مہینہ ہے۔
اس وقت ثریا ستارہ صبح کے وقت طلوع ہونے لگتا ہے۔
طلوع ثریا اس کے پختہ ہونے کی علامت ہے۔
اس وقت پھلوں کے لیے خطرات کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
حجاز کے علاقے میں اس وقت سخت گرمی ہوتی ہے اور پھل وغیرہ پک جاتے ہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
امام بخاری ؒ نے حسن ترتیب سے ان احادیث کو بیان کیا ہے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ کی حدیث میں ممانعت کا سبب بیان ہوا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ممانعت کی صراحت ہے، پھر حضرت انس اور حضرت جابر ؓ کی احادیث میں اس حکم امتناعی کی انتہا کا بیان ہے جہاں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 502/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2196]
Musnad al-Humaydi Hadith 1316 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري