🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 274
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ لِعَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَيْنِ، فَقَالَتْ: " لَعَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَةَ النِّسَاءِ" .
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ ایک عورت نعلین (مردوں کے مخصوص قسم کے جوتے) پہنتی ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین پر لعنت کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فيه عنعنة ابن جريج، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4880، ويشهد له حديث ابن عباس الذى خر جناه فى مسند الموصلي أيضاً برقم 2433،. وحديث أبى هريرة الذى خر جناه برقم 1455، فى موارد الظمآن ورجله النساء المتشبهة بالرجال..»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 274 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:274
فائدہ:
اس حدیث میں عورتوں کا مردوں کی مشابہت کرنے سے منع کیا گیا ہے، یہاں تک کہ عورت مردوں والی جوتی اور ان جیسے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی۔ اگر چہ حد یث بلحاظ سند ضعیف ہے لیکن اپنے شاہد کی وجہ سے صحيح ہے۔ شاہد کے لیے دیکھیے (سنن ابی داؤد: 4098) یہ شاہد صحيح ثابت ہے۔ والحمد للہ۔ گھر کے اند رعورت کا مردوں کی جوتی پہننا اور مرد کا عورتوں کی جوتی پہننا بھی اس حدیث کے عموم کی وجہ سے منع ہے، لیکن اگر ہاتھ وغیرہ میں جاتے وقت پہن لی جائے، بشرطیکہ اپنی جوتی نہ مل رہی ہو، تو اس کی گنجائش ہے۔ ایک تو بامر مجبوری ہے اور دوسرا وہ اپنے گھر میں ہی ہے، عورت ی جوتی پہن کر باہر نہیں جارہا کہ کوئی اسے عورت تصور کرنا شروع کر دے گا۔ موجودہ دور میں خواتین مردوں کی مشابہت کی خاطر اور مردعورتوں کی مشابہت کی خاطر بہت زیادہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی اصلاح فرماۓ۔ آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 274]

Musnad al-Humaydi Hadith 274 in Urdu