مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(عرفہ کے دن آیت کی نزول اور عید قرار دینے کی بات)
حدیث نمبر: 31
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ , وَغَيْرِهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ:" لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، لاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَفِي يَوْمِ جُمُعَةٍ" .
طارق بن شہاب کہتے ہیں: یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم لوگوں پر نازل ہوئی ہوتی۔ ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا۔“ (5-المائدة:13) تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی؟ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور جمعہ کے دن میں نازل ہوئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 7268، والترمذي 3046، ومسلم: 3017»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3046
| انصرفوا فقد عصمني الله |
المعجم الصغير للطبراني |
575
| يأيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس سورة المائدة آية 67 ، ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم الحرس |
مسندالحميدي |
31
| إني لأعلم أي يوم نزلت هذه الآية نزلت يوم عرفة وفي يوم جمعة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 31 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:31
فائدہ:
اسلام میں صرف دوعید میں ہیں: ➊ عیداالنخی ➋ عید الفطر۔ ان کے علاوہ اسلام نے کسی اور دن کو عید نہیں کہا۔ مسلمانوں کو قرآن وحدیث کی تابعداری کرنی چاہیے، آج کل بعض لوگوں نے دین کے نام پر بدعات وخرافات کو عروج دے رکھا ہے، آئے دن بڑی سے بڑی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، انھی بدعات میں سے عید میلاد النبی بھی ہے، کس طرح نام نہاد ”اہل سنت“ اسلام سے مذاق کر رہے ہیں، الامان والحفیظ۔
ا «لْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» (المائده: 3) واقعتاً عظیم المرتبت آیت ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں:
① دین مکمل ہو گیا ہے، اس میں کسی قسم کے اضافے یا کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی امت کے لیے تکمیل دین ایک بہت بڑا اعزاز و انعام ہے جو امت محمدیہ کو نصیب ہوا۔
② دین اسلام ایک نعمت باری تعالیٰ ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
③ دین اسلام اللہ تعالی کی پسند ہے تو مسلمانوں کوبھی پسند ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے ماہر تھے حتی کہ کوئی آیت کریمہ کہاں اور کب نازل ہوئی ہے، اس کا بھی علم رکھتے تھے۔
اسلام میں صرف دوعید میں ہیں: ➊ عیداالنخی ➋ عید الفطر۔ ان کے علاوہ اسلام نے کسی اور دن کو عید نہیں کہا۔ مسلمانوں کو قرآن وحدیث کی تابعداری کرنی چاہیے، آج کل بعض لوگوں نے دین کے نام پر بدعات وخرافات کو عروج دے رکھا ہے، آئے دن بڑی سے بڑی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، انھی بدعات میں سے عید میلاد النبی بھی ہے، کس طرح نام نہاد ”اہل سنت“ اسلام سے مذاق کر رہے ہیں، الامان والحفیظ۔
ا «لْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» (المائده: 3) واقعتاً عظیم المرتبت آیت ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں:
① دین مکمل ہو گیا ہے، اس میں کسی قسم کے اضافے یا کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی امت کے لیے تکمیل دین ایک بہت بڑا اعزاز و انعام ہے جو امت محمدیہ کو نصیب ہوا۔
② دین اسلام ایک نعمت باری تعالیٰ ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
③ دین اسلام اللہ تعالی کی پسند ہے تو مسلمانوں کوبھی پسند ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے ماہر تھے حتی کہ کوئی آیت کریمہ کہاں اور کب نازل ہوئی ہے، اس کا بھی علم رکھتے تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 31]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3046
سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ (المائدہ: ۶۷)، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3046]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ (المائدہ: ۶۷)، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3046]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ (المائدۃ: 67)۔
2؎:
اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا،
مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔
وضاحت:
1؎:
”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ (المائدۃ: 67)۔
2؎:
اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا،
مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3046]
قيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي