Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(اہل مدینہ کے لیے مال کی تقسیم اور فتوحات کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 30
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا صَلَّى صَلاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ حَاجَةٌ قَامَ , فَدَخَلَ، قَالَ: فَصَلَّى صَلَوَاتٍ لا يَجْلِسُ لِلنَّاسِ فِيهِنَّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَحَضَرْتُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ! أَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكَاةٌ؟ فَقَالَ: مَا بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ شَكْوًى، فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَجَلَسَ، فَخَرَجَ يَرْفَأُ، فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ، فَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ مَالٍ عَلَى كُلِّ صُبْرَةٍ مِنْهَا كِنْفٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فوَجَدْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَرُدَّا، فَأَمَّا عُثْمَانُ فَحَثَا، وَأَمَّا أَنَا فَجَثَوْتُ لِرُكْبَتَيَّ، وَقُلْتُ: وَإِنْ كَانَ نُقْصَانًا رَدَدْتَ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: نَشْنَشَةٌ مِنْ أَخْشَنَ يَعْنِي: حَجَرًا مِنْ جَبَلٍ، أَمَا كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ إِذْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ، فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ! لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَلَوْ عَلَيْهِ فُتِحَ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ، وَقَالَ: أَوْ صَنَعَ مَاذَا؟ قُلْتُ: إِذًا لأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ عُمَرُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلاعُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لا لِيَ , وَلا عَلَيَّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کچھ نمازیں ادا کیں لیکن وہ ان کے بعد لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں بیٹھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ان کے دروازے پر آیا میں نے کہا: اے یرفا! (یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خادم تھا) کیا امیر المؤمنین بیمار ہیں؟ اس نے جواب دیا: امیر المؤمنین بیمار تو نہیں ہیں۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) میں وہاں بیٹھ گیا اسی دوران سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وہاں آگئے، تو وہ بھی وہاں بیٹھ گئے۔ یرفا باہر آیا، تو بولا: اے ابن عفان! اے ابن عباس! آپ آئیے تو ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کے سامنے مال کے کچھ ڈھیر رکھے ہوئے تھے اور ہر ڈھیر کے ساتھ برتن بھی رکھا ہوا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں نے اہل مدینہ کا جائزہ کیا تو میں نے تم دونوں کو ایسا پایا، جن کے خاندانوں کے زیادہ افراد یہاں موجود ہیں، تو آپ لوگ اس مال کو حاصل کر کے تقسیم کریں جو بچ جائے وہ واپس کر دیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ ملا کر جو کچھ آیا تھا وہ لے لیا لیکن میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا میں نے کہا: اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں اور دیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: سخت ترین چیز کا ٹکڑا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ کا پتھر ہے (یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے والد کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ان کی تعریف کی کہ یہ اپنی جرأت میں اور صحیح رائے پیش کرنے میں اپنے والد کی مانند ہیں)۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بولے: کیا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس چیز کی کوئی قدر نہیں ہوگی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب «كِدْ» کھایا کرتے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ بات قابل قدر ہے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات نصیب ہوتیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اس سے مختلف ہوتا جو آپ کا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور بولے: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کرنا تھا، تو میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کھانا تھا، اور ہمیں بھی کھانے دینا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، یہاں تک کہ ان کی پسلیاں حرکت کرنے لگیں، پھر وہ بولے: میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے سے برابری کی بنیاد پر نکل جاؤں نہ مجھے کچھ ملے نہ میرے ذمہ کچھ لازم ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وهو موقوف، وأخرجه البزار فى البحر الزخار 326/1 برقم 209 وفي كشف الأستار: 3664، وابن سعد فى الطبقات: 207/1/3»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥كليب بن شهاب الجرمي، أبو عاصم
Newكليب بن شهاب الجرمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← كليب بن شهاب الجرمي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم بن كليب الجرمي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 30 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:30
فائدہ:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تمام لوگوں پر ہر طرح نظر رکھتے تھے، اور جس کا اہل وعیال زیادہ ہوتا تھا، اس کو زیادہ مال وغیرہ دیتے تھے، سبحان اللہ۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ کس قدر لوگوں کے خیر خواہ تھے، افسوس کہ یہ خیر خواہی آج ختم ہو چکی ہے، ہر طرف ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے، خصوصاً علمائے دین جن کی زندگیاں دین کے لئے وقف ہیں، ان کے ساتھ تو بہت ظلم کیا جا رہا ہے، اکثر علمائے کرام کے اہل و عیال زیادہ ہوتے ہیں، اور ان کی تنخواہیں سب سے تھوڑی ہوتی ہیں، بس اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور تمام ملازمین کا خصوصی خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
اس حدیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے۔ اگر کوئی سید نا عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کرتا تو اس کی مکمل بات بڑے حوصلے سے سنتے اور اگر مخالف اپنی بات میں سچا ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فورا حق کو قبول فرما لیتے تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 30]