🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 332
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقُ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ" .
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کر دیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی، تو نظر لگنا اس سے سبقت لے جاتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه النسائي فى «الكبرى» ، برقم: 7495، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 2059، وابن ماجه في «سننه» ، برقم: 3510، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 19646، برقم: 19647، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 28115، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 24057، برقم: 24059، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» ، برقم: 7189، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 376»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت عميس الخثعميةصحابي
👤←👥عبيد بن رفاعة الزرقي
Newعبيد بن رفاعة الزرقي ← أسماء بنت عميس الخثعمية
ثقة
👤←👥عروة بن عامر الجهني
Newعروة بن عامر الجهني ← عبيد بن رفاعة الزرقي
مختلف في صحبته والراجح أنه تابعي ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عروة بن عامر الجهني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3510
لو كان شيء سابق القدر سبقته العين
مسندالحميدي
332
نعم، لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 332 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:332
فائدہ:
اس حدیث سے دم کا جواز ثابت ہوتا ہے، نظر یا کسی بھی بیماری کا دم سے علاج کرنا مسنون ہے۔ بعض لوگوں نے دم کو ذریعہ آمدنی بنا رکھا ہے، وہ فی دم (300) روپے لیتے ہیں، اور بعض مریضوں کو ڈرا دھمکا کر اور غائب کا دعوی کر کے 30 ہزار تک ایک دم کا بٹورتے ہیں۔ ایسے دم کرنے والوں سے دور رہنا چاہیے، یہ آپ کے ایمان اور مال کولوٹنے والے ہیں۔ تقدیر برحق ہے، یہ بھی ثابت ہوا کہ تقدیر سے کوئی چیز سبقت نہیں لے جاسکتی، جو کچھ بندوں نے کرنا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اور وہی لکھا ہوا ہے، اس کو تقدیر کہتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 332]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3510
نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3510]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت جعفر طیارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن ابی طالب)
کے بیٹے حضر ت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے بیٹے ہیں۔
حضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ 8 ہجری میں غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے تو اسماء سے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا اس لئے انھوں نے جعفر کے بیٹے فرمایا، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد اس خاتون سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا تھا۔

(2)
نظر یا بیماری کی وجہ سے دم کرنا اور کروانا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ دم میں شرکیہ اور بے معنی مہمل الفاظ نہ ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3510]