🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 338
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ ، تَقُولُ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" . قَالَ مُوسَى: وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا.
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اور کسی کی زبانی یہ بات نہیں سنی کہ سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح: وأخرجه البخاري فى «الدعوات» برقم: 1376،6364، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1001، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 5124،7022، والنسائي فى «الكبرى» ، برقم: 7673، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 27698، 27700، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 12162، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» ، برقم: 5184، والطبراني في «الكبير» ، برقم: 242، 244، 246»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أمة بنت خالد القرشية، أم خالدصحابي
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← أمة بنت خالد القرشية
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6364
يتعوذ من عذاب القبر
صحيح البخاري
1376
يتعوذ من عذاب القبر
مسندالحميدي
338
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من عذاب القبر
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 338 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:338
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عذاب قبر حق ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ عذاب قبر کے اثبات میں بے شمار احادیث ہیں، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نعم، عذاب القبر حق» ‏‏‏‏ (ہاں، عذاب قبر حق ہے) (متفق علیہ)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: (قبر میں) کافر سے کہا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: مجھے معلوم نہیں ہے، تو وہ اس وقت گونگا، بہرا اور اندھا ہو جائے گا تو اس کو ایک ایسے ہتھوڑے سے مارا جائے گا کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے، انسانوں اور جنوں کے علاوہ ہر کوئی اس کی چیخ کو سنتا ہے۔ (سنن ابی داود: 4750، سنن ترمذی: 3120، قال الألباني: صحیح)
یاد رہے کہ محض عقل فاسد کی بنا پر قرآن و حدیث سے ثابت شدہ مسئلے کا انکار کرنا یا تاویل کرنا بہت بڑی گمراہی ہے، اور اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ عذاب قبر عقیدے کا مسئلہ ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ عذاب قبرحق ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 338]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1376
1376. حضرت ام خالد بنت خالد ؓ سے روایت ہے،انھوں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ طلب کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1376]
حدیث حاشیہ:
(1)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
“ (فتح الباري: 307/3)
اس روایت سے پہلی روایت کی تفسیر بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عذاب کی آواز سنے بغیر عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے تو آواز سننے پر بالاولیٰ پناہ طلب کرنا ثابت ہوتا ہے۔
(2)
مصنف نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں بھی بیان کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کو ام خالد ؓ کے علاوہ اور کسی صحابی نے بیان نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6364)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1376]

Musnad al-Humaydi Hadith 338 in Urdu