🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 342
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ، فَكَرِهَهُ، وَقَالَ لأَصْحَابِهِ:" كُلُوا، فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ , إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي"
سیدہ ام ایوب انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے میں سبزی پکائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پسند نہیں آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ اسے کھا لو، کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) کو اذیت پہنچاؤں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح: وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1671، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2093، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1810، والدارمي فى «مسنده» ، برقم: 2098، وابن ماجه في «سننه» ، برقم: 3364، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 28085، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على «مسند أحمد» ، برقم: 21376، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 8750، وأخرجه الطحاوي في «شرح معاني الآثار» برقم: 6617، 6618، وأخرجه الطبراني في «الكبير» برقم: 329»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم أيوب بنت قيس الخزرجية، أم أيوبصحابي
👤←👥أبو يزيد المكي، أبو يزيد
Newأبو يزيد المكي ← أم أيوب بنت قيس الخزرجية
ثقة
👤←👥عبيد الله بن أبي يزيد المكي
Newعبيد الله بن أبي يزيد المكي ← أبو يزيد المكي
ثقة كثير الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبيد الله بن أبي يزيد المكي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1810
إني أخاف أن أوذي صاحبي
سنن ابن ماجه
3364
إني أكره أن أوذي صاحبي
مسندالحميدي
342
كلوا فإني لست كأحدكم إني أكره أن أوذي صاحبي
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 342 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:342
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز کھانا یا استعمال کرنا نا پسندیدہ ہے جس سے منہ سے بدبو آنا شروع ہو جائے، مثلا: پیاز، لہسن، حقہ، سگریٹ وغیرہ۔ یاد رہے کہ پیاز اور لہسن کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس سے بو ختم ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جبرائیل امین علیہ السلام میں بھی اللہ تعالیٰ نے قوت حس رکھی ہے، اس لیے تو وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ بعض محدثین اور تابعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار ہوا ہے۔ بعض لوگ خود ہی جھوٹے خواب بنا کر لوگوں کو مرعوب کرتے پھرتے ہیں، ان کی فریب کاریوں میں نہیں آنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 342]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
قَالَ سُفْيَانُ:" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي يُحَدَّثُ بِهِ عَنْكَ أَنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ، فَقَالَ: حَقٌّ".

امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ اس روایت کے بارے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی، جس سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بالکل درست ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح: وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1671، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2093، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1810، والدارمي فى «مسنده» ، برقم: 2098، وابن ماجه في «سننه» ، برقم: 3364، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 28085، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على «مسند أحمد» ، برقم: 21376، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 8750، وأخرجه الطحاوي في «شرح معاني الآثار» برقم: 6617، 6618، وأخرجه الطبراني في «الكبير» برقم: 329»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1810
إني أخاف أن أوذي صاحبي
سنن ابن ماجه
3364
إني أكره أن أوذي صاحبي
مسندالحميدي
342
كلوا فإني لست كأحدكم إني أكره أن أوذي صاحبي
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 342 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:342
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز کھانا یا استعمال کرنا نا پسندیدہ ہے جس سے منہ سے بدبو آنا شروع ہو جائے، مثلا: پیاز، لہسن، حقہ، سگریٹ وغیرہ۔ یاد رہے کہ پیاز اور لہسن کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس سے بو ختم ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جبرائیل امین علیہ السلام میں بھی اللہ تعالیٰ نے قوت حس رکھی ہے، اس لیے تو وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ بعض محدثین اور تابعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار ہوا ہے۔ بعض لوگ خود ہی جھوٹے خواب بنا کر لوگوں کو مرعوب کرتے پھرتے ہیں، ان کی فریب کاریوں میں نہیں آنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 342]