🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 345
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، أَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَهَا، فَأَتَيْتُهَا , فَأَخْرَجَتْ إِلِيَّ إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا , أَوْ مُدَّا وَرُبْعًا بِمُدِّ ابْنِ هَاشِمٍ، فَقَالَتْ:" بِهَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَضُوءَ، فَيَبْدَأُ , فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا" ، قَالَتْ: وَقَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ، فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا عَلِمْت فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلا غُسْلَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَوَصَفَ لَنَا سُفْيَانُ الْمَسْحَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى قَرْنَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا إِلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا , فوَضَعَهُمَا عَلَى قَرْنَيْهِ مِنْ وَسَطِ رَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ إِلَى قَفَاهُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ عَجْلانَ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلا , عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ، فَزَادَ فِي الْمَسْحِ، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ مِنْ قَرْنَيْهِ عَلَى عَارِضَيْهِ حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ لِحْيَتِهِ، فَلَمَّا سَأَلْنَا ابْنَ عَقِيلٍ عَنْهُ لَمْ يَصِفْ لَنَا فِي الْمَسْحِ الْعَارِضَيْنِ، وَكَانَ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ , فَكَرِهْتُ أَنْ أَلْقَنَهُ.
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: امام زین العابدین رحمہ اللہ نے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں دریافت کروں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا تھا، میں اس خاتون کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک برتن نکال کر مجھے دکھایا جس میں ایک مد یا شاید ایک مد اور ایک چوتھائی مد پانی آتا ہو گا۔ انہوں نے بتایا: میں اس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی رکھتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز کرتے ہوئے پہلے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھوتے تھے، پھر دونوں بازو تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر اپنے سر مبارک کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کرتے تھے۔ پھر دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر اس خاتون نے بتایا، تمہارے چچا زاد میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا میں انہیں بتایا تو وہ بولے: مجھے اللہ کی کتاب میں صرف دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پر مسح کا حکم ملتا ہے۔ اس خاتون کی مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے ہمارے سامنے مسح کا طریقہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ مانگ کے دونوں اطراف پر رکھے پھر ان کے ذریعے اپنی پیشانی تک مسح کیا پھر انہوں نے سر کے درمیان میں مانگ کے دونوں کناروں پر دونوں ہاتھ رکھے پھر پیچھے گردن تک مسح کیا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان نے پہلے یہ روایت ابن عقیل کے حوالے سے سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے نقل کی تھی اور انہوں نے مسح کے بارے میں مزید یہ الفاظ نقل کئے: پھر وہ اپنے دونوں کناروں کا مسح کرتے ہوئے رخساروں تک آئے، یہاں تک کہ داڑھی کے کنارے تک آئے۔ جب ہم نے ابن عقیل سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے رخساروں پر مسح کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی اس لیے میں نے انہیں تلقین کرنے کو پسند نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده حسن: أخرجه الحاكم في «مستدركه» برقم: 542، وأبو داود فى «سننه» برقم: 126، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 33، والدارمي فى «مسنده» برقم: 717، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 418، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 274،والدارقطني في «سننه» ، برقم: 288،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27657، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 59»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصاريةصحابي
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← الربيع بنت معوذ الأنصارية
مقبول
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
33
مسح برأسه مرتين بدأ بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما
جامع الترمذي
34
مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة
سنن أبي داود
126
غسل كفيه ثلاثا ووضأ وجهه ثلاثا ومضمض واستنشق مرة ووضأ يديه ثلاثا ثلاثا ومسح برأسه مرتين بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما ووضأ رجليه ثلاثا ثلاثا
سنن أبي داود
128
توضأ عندها فمسح الرأس كله من قرن الشعر كل ناحية لمنصب الشعر لا يحرك الشعر عن هيئته
سنن أبي داود
129
مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة
سنن أبي داود
130
مسح برأسه من فضل ماء كان في يده
سنن أبي داود
131
توضأ فأدخل إصبعيه في حجري أذنيه
سنن ابن ماجه
390
اسكبي فسكبت فغسل وجهه وذراعيه وأخذ ماء جديدا فمسح به رأسه مقدمه ومؤخره وغسل قدميه ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
418
توضأ ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
438
توضأ رسول الله فمسح رأسه مرتين
سنن ابن ماجه
440
توضأ فمسح ظاهر أذنيه وباطنهما
سنن ابن ماجه
441
توضأ النبي فأدخل إصبعيه في جحري أذنيه
سنن ابن ماجه
458
توضأ وغسل رجليه
سنن الدارمي
713
يأتينا في منزلنا فآخذ ميضأة لنا تكون مدا وثلث مد أو ربع مد فأسكب عليه فيتوضأ ثلاثا ثلاثا
المعجم الصغير للطبراني
153
توضأ ومسح برأسه مرة
مسندالحميدي
345
بهذا كنت أخرج لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوضوء فيبدأ فيغسل يديه ثلاثا قبل أن يدخلهما الإناء، ثم يتمضمض ويستنثر ثلاثا ثلاثا، ويغسل وجهه ثلاثا، ثم يغسل يديه ثلاثا ثلاثا، ثم يمسح برأسه مقبلا ومدبرا، ويغسل رجليه ثلاثا ثلاثا
Musnad al-Humaydi Hadith 345 in Urdu