یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 345
حدیث نمبر: 345
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، أَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَهَا، فَأَتَيْتُهَا , فَأَخْرَجَتْ إِلِيَّ إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا , أَوْ مُدَّا وَرُبْعًا بِمُدِّ ابْنِ هَاشِمٍ، فَقَالَتْ:" بِهَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَضُوءَ، فَيَبْدَأُ , فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا" ، قَالَتْ: وَقَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ، فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا عَلِمْت فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلا غُسْلَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَوَصَفَ لَنَا سُفْيَانُ الْمَسْحَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى قَرْنَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا إِلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا , فوَضَعَهُمَا عَلَى قَرْنَيْهِ مِنْ وَسَطِ رَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ إِلَى قَفَاهُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ عَجْلانَ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلا , عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ، فَزَادَ فِي الْمَسْحِ، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ مِنْ قَرْنَيْهِ عَلَى عَارِضَيْهِ حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ لِحْيَتِهِ، فَلَمَّا سَأَلْنَا ابْنَ عَقِيلٍ عَنْهُ لَمْ يَصِفْ لَنَا فِي الْمَسْحِ الْعَارِضَيْنِ، وَكَانَ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ , فَكَرِهْتُ أَنْ أَلْقَنَهُ.
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: امام زین العابدین رحمہ اللہ نے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں دریافت کروں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا تھا، میں اس خاتون کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک برتن نکال کر مجھے دکھایا جس میں ایک مد یا شاید ایک مد اور ایک چوتھائی مد پانی آتا ہو گا۔ انہوں نے بتایا: میں اس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی رکھتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز کرتے ہوئے پہلے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھوتے تھے، پھر دونوں بازو تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر اپنے سر مبارک کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کرتے تھے۔ پھر دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر اس خاتون نے بتایا، تمہارے چچا زاد میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا میں انہیں بتایا تو وہ بولے: مجھے اللہ کی کتاب میں صرف دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پر مسح کا حکم ملتا ہے۔ اس خاتون کی مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے ہمارے سامنے مسح کا طریقہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ مانگ کے دونوں اطراف پر رکھے پھر ان کے ذریعے اپنی پیشانی تک مسح کیا پھر انہوں نے سر کے درمیان میں مانگ کے دونوں کناروں پر دونوں ہاتھ رکھے پھر پیچھے گردن تک مسح کیا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان نے پہلے یہ روایت ابن عقیل کے حوالے سے سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے نقل کی تھی اور انہوں نے مسح کے بارے میں مزید یہ الفاظ نقل کئے: ”پھر وہ اپنے دونوں کناروں کا مسح کرتے ہوئے رخساروں تک آئے، یہاں تک کہ داڑھی کے کنارے تک آئے۔“ جب ہم نے ابن عقیل سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے رخساروں پر مسح کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی اس لیے میں نے انہیں تلقین کرنے کو پسند نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 345]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے ہمارے سامنے مسح کا طریقہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ مانگ کے دونوں اطراف پر رکھے پھر ان کے ذریعے اپنی پیشانی تک مسح کیا پھر انہوں نے سر کے درمیان میں مانگ کے دونوں کناروں پر دونوں ہاتھ رکھے پھر پیچھے گردن تک مسح کیا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان نے پہلے یہ روایت ابن عقیل کے حوالے سے سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے نقل کی تھی اور انہوں نے مسح کے بارے میں مزید یہ الفاظ نقل کئے: ”پھر وہ اپنے دونوں کناروں کا مسح کرتے ہوئے رخساروں تک آئے، یہاں تک کہ داڑھی کے کنارے تک آئے۔“ جب ہم نے ابن عقیل سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے رخساروں پر مسح کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی اس لیے میں نے انہیں تلقین کرنے کو پسند نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن: أخرجه الحاكم في «مستدركه» برقم: 542، وأبو داود فى «سننه» برقم: 126، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 33، والدارمي فى «مسنده» برقم: 717، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 418، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 274،والدارقطني في «سننه» ، برقم: 288،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27657، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 59»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصارية | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد عبد الله بن عقيل الهاشمي ← الربيع بنت معوذ الأنصارية | مقبول | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
33
| مسح برأسه مرتين بدأ بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما |
جامع الترمذي |
34
| مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة |
سنن أبي داود |
126
| غسل كفيه ثلاثا ووضأ وجهه ثلاثا ومضمض واستنشق مرة ووضأ يديه ثلاثا ثلاثا ومسح برأسه مرتين بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما ووضأ رجليه ثلاثا ثلاثا |
سنن أبي داود |
128
| توضأ عندها فمسح الرأس كله من قرن الشعر كل ناحية لمنصب الشعر لا يحرك الشعر عن هيئته |
سنن أبي داود |
129
| مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة |
سنن أبي داود |
130
| مسح برأسه من فضل ماء كان في يده |
سنن أبي داود |
131
| توضأ فأدخل إصبعيه في حجري أذنيه |
سنن ابن ماجه |
390
| اسكبي فسكبت فغسل وجهه وذراعيه وأخذ ماء جديدا فمسح به رأسه مقدمه ومؤخره وغسل قدميه ثلاثا ثلاثا |
سنن ابن ماجه |
418
| توضأ ثلاثا ثلاثا |
سنن ابن ماجه |
438
| توضأ رسول الله فمسح رأسه مرتين |
سنن ابن ماجه |
440
| توضأ فمسح ظاهر أذنيه وباطنهما |
سنن ابن ماجه |
441
| توضأ النبي فأدخل إصبعيه في جحري أذنيه |
سنن ابن ماجه |
458
| توضأ وغسل رجليه |
سنن الدارمي |
713
| يأتينا في منزلنا فآخذ ميضأة لنا تكون مدا وثلث مد أو ربع مد فأسكب عليه فيتوضأ ثلاثا ثلاثا |
المعجم الصغير للطبراني |
153
| توضأ ومسح برأسه مرة |
مسندالحميدي |
345
| بهذا كنت أخرج لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوضوء فيبدأ فيغسل يديه ثلاثا قبل أن يدخلهما الإناء، ثم يتمضمض ويستنثر ثلاثا ثلاثا، ويغسل وجهه ثلاثا، ثم يغسل يديه ثلاثا ثلاثا، ثم يمسح برأسه مقبلا ومدبرا، ويغسل رجليه ثلاثا ثلاثا |
Musnad al-Humaydi Hadith 345 in Urdu
عبد الله بن عقيل الهاشمي ← الربيع بنت معوذ الأنصارية